دنگل فلم کی سوہانی بھٹناگر: پٹھوں کی نایاب بیماری جس نے نوجوان اداکارہ کی جان لے لی


GETTY IMAGES

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

عامر خان کی ریسلنگ فلم دنگل میں ببیتا پھوگٹ کے بچپن کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ سوہانی بھٹناگر 19 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اس کے والد سمیت بھٹناگر نے بتایا کہ سوہانی ڈرماٹومیوسائٹس نامی بیماری میں مبتلا تھیں۔

سوہانی کو 7 فروری کو دہلی کے ایمس ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں ان کا علاج کیا جا رہا تھا۔ لیکن 16 فروری کو وہ جان کی بازی ہار گئیں۔

ڈرماٹومیوسائٹس ایک بہت ہی نایاب بیماری ہے جس میں پٹھے سوج جاتے ہیں اور جلد پر دانے نکل آتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر اس مرض کی صحیح وقت پر تشخیص اور ماہرین کی نگرانی میں اس کا علاج کیا جائے تو اس کی سنگینی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

تاہم، بعض صورتوں میں یہ جسم کے اہم اعضا کو اتنی تیزی سے متاثر کر سکتی ہے کہ مریض کی موت بھی ہو سکتی ہے۔

ڈرماٹومیوسائٹس کیا بیماری ہے؟

Dr. Anju Jha

،تصویر کا ذریعہDR. ANJU JHA

،تصویر کا کیپشن

ڈاکٹر انجو جھا

دہلی میں ماہر امراض جِلد ڈاکٹر انجو جھا بتاتی ہیں کہ یہ ایک آٹو امیون ڈس آرڈر ہے، جس میں ہمارے جسم کا مدافعتی نظام اپنے ہی اعضا کے خلاف کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔

جسم میں کچھ اینٹی باڈیز بننا شروع ہو جاتی ہیں جو پٹھوں پر حملہ کر کے انھیں کمزور کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس کی وجہ سے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں۔

آہستہ آہستہ یہ مسئلہ مختلف اعضا کو متاثر کرتا ہے اور ان میں سوزش پیدا ہوتی ہے۔

اس کی علامات کے بارے میں ڈاکٹر انجو کہتی ہیں ’ہر مریض کو مختلف قسم کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات جلد پر دانے نکل آتے ہیں۔ پلکوں میں سوجن ہوتی ہے۔ کبھی کبھی صرف کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ جیسے کہ مریض کو اپنے بالوں میں کنگھی کرنے کے لیے ہاتھ اٹھانے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ اگر کولہے کے جوڑوں میں کوئی مسئلہ ہو تو اسے اٹھنے بیٹھنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔‘

شروع میں صرف چہرے یا پلکوں پر سرخ یا جامنی رنگ کے دھبے یا جوڑوں میں درد کا مسئلہ ہوتا ہے۔ تاہم بعد میں بہت سے مریضوں کو چلنے پھرنے میں دشواری ہونے لگتی ہے اور جب پھیپھڑوں کے پٹھے متاثر ہوتے ہیں تو انھیں سانس لینے میں تکلیف ہونے لگتی ہے۔

GETTY IMAGES

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق ڈرماٹومائوسائٹس کی صحیح وجوہات کا پتا نہیں چلایا جا سکا ہے تاہم یہ مسئلہ آپ کے جینز، بزرگ افراد میں کینسر، کوئی اور انفیکشن، دوا یا ماحول کی کسی بھی چیز سے الرجی کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔

اس میں خون کی وہ شریانیں جو خون کو جلد اور پٹھوں تک لے جاتی ہیں، سوج جاتی ہیں۔ اس سے جلد پر جامنی یا سرخ دھبے بن سکتے ہیں، جو درد یا خارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

بعض اوقات کہنیوں، گھٹنوں یا انگلیوں پر جامنی رنگ کے دھبے بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ ناخنوں کے گرد سوجن، جوڑوں میں اکڑن، خشک جلد اور بالوں کا پتلا ہونا بھی ظاہری علامات میں شامل ہو سکتا ہے۔

مسئلہ بڑھنے کی صورت میں خوراک نگلنے میں دشواری ہو سکتی ہے، آواز بدل سکتی ہے اور تھکاوٹ، بخار یا وزن میں کمی جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس بیماری کی شناخت کیسے کی جاتی ہے؟

GETTY IMAGES

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

ابتدائی علامات ظاہر ہونے پر مریض کی میڈیکل ہسٹری اور جسمانی معائنہ کر کے ان علامات کی وجہ معلوم کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر انجو جھا کا کہنا ہے کہ تصدیق کے لیے خون کے ٹیسٹ، الیکٹرومائیلوگرام (ای ایم جی) اور بائیوپسی (جسم سے کچھ مواد نکال کر لیبارٹری میں جانچنا) کی مدد لی جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ سب سے درست طریقہ یہ ہے کہ متاثرہ پٹھوں کی بائی آپسی کروائی جائے۔

ڈاکٹر انجو جھا کا کہنا ہے کہ ڈرماٹومیوسائٹس 5 سے 14 سال کی عمر کے بچوں یا 40 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات یہ بچوں میں تیزی سے بڑھتا ہے اور جب تک اس کی تشِخیص ہوتی ہے اس سے پہلے ہی کافی نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ اداکارہ سوہانی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہو گا۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مدافعتی نظام کو کنٹرول کرنے کے لیے امیونوسوپریسنٹس (ایسی ادویات جو قوت مدافعت کو کمزور کرتی ہیں) دی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے مریض کو دیگر بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ایک بار تشخیص ہونے کے بعد مناسب علاج کروائیں

GETTY IMAGES

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق، ڈرماٹومیوسائٹس کا علاج صرف علامات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر پٹھوں میں سختی ہے تو تھراپی کی جاتی ہے۔ جلد کے دھبوں کو روکنے کے لیے دوائیں دی جاتی ہیں۔ قوت مدافعت کو بڑھانے والی ادویات بھی دی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر انجو جھا کہتی ہیں ’اگر آپ کو ڈرماٹومیوسائٹس اور اس کے ساتھ کسی قسم کا آٹو امیون ڈس آرڈر بھی ہے تو آپ کو مسلسل دوائیں لینا پڑتی ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ آپ صرف ایک دوا سے فوراً ٹھیک ہو جائیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’پہلے اپنی علامات کو ٹھیک کریں۔ ایک بار تشخیص ہونے کے بعد مناسب علاج کروائیں۔ بعض اوقات سٹیرائیڈز بھی دی جاتی ہیں۔ لوگوں میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں کہ سٹیرائیڈز نہیں لینی چاہیں۔ لیکن صحیح ڈاکٹر، جیسے ڈرمیٹولوجسٹ یا ریمیٹولوجسٹ کا ہونا ضروری ہے۔ ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اس کے مشورے سے مناسب علاج کروائیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post

728x90